اتنا ہی نہیں ھے کہ محبانِ علیؑ ہیں
ہم لوگ غلامانِ غلامانِ علیؑ ہیں
بوزر کے عقیدے سے ہیں، قربانِ علیؑ ہیں
سلمان کے دیوانے سلیمانِ علیؑ ہیں
وارفتہ ہیں پروردہِ احسانِ علیؑ ہیں
مجنون ہیں دم مست مریدانِ علیؑ ہیں
کیا سالک و مجذوب ، ولی، غوث، قلندر
سب اہلِ صفا پہلے فدایانِ علیؑ ہیں
ہم سے نہ لکھے جائیں گے غیروں کے قصیدے
ہم خاکِ نجف لوگ غزل خوانِ علیؑ ہیں
اپنی یہی معراج ہے عزت بھی یہی ھے
ہم کُشتہ بدن کِشتِ گلستانِ علیؑ ہیں
یہ تیر یہ تلوار یہ سامانِ حرب سب
شاعر کی نگاہوں میں یہ دیوانِ علیؑ ہیں
بےباکی، جواں مردی، جگر داری و جرات
یہ لفظ نہیں بھائی یہ عنوانِ علیؑ ہیں
تعمیل کیا وقت نے یہ نکتہ پلٹ کر
خورشید و قمر تابعِ فرمانِ علیؑ ہیں
وہ غزوہءِ خیبر ہو کہ خندق ہو، احد ہو
میدان ہیں جتنے بھی وہ میدانِ علیؑ ہیں
عالم میں چُنیدہ ہیں بہت خاص ہیں تحسین
وہ لوگ جو وابستہءِ دامانِ علیؑ ہیں ❤️
0 تبصرے